دریدہ گریباں

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - پھٹے حال، غریب، مفلس۔ "کلکتہ کی جو کچھ بھی رونق تھی بس انھی دریدہ گریبانوں اور چاک دامانوں سے تھی۔"      ( ١٩٧٤ء، ہمہ یاراں، دوزخ، ٨٩ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم صفت 'دریدہ' کے ساتھ فارسی سے ماخوذ اسم 'گریبان' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٩٧٤ء سے "ہمہ یاراں دوزخ" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پھٹے حال، غریب، مفلس۔ "کلکتہ کی جو کچھ بھی رونق تھی بس انھی دریدہ گریبانوں اور چاک دامانوں سے تھی۔"      ( ١٩٧٤ء، ہمہ یاراں، دوزخ، ٨٩ )